قیمتی اور گہری باتیں

بزرگوں سے سنا ہے کہ اگر سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے تو یقین کر لینا مگر کسی کی فطرت بدل گئی ہے اس کا یقین کبھی نہ کرنا۔ عادت بدل سکتی ہے۔ فطرت نہیں زندگی میں کچھ پل ایسے آتے ہیں۔ جنہیں چاہ کر بھی ہم اپنی یاداشت سے مٹا نہیں سکتے۔ مجھے اختلاف ہے۔ ان لوگوں سے جو کہتے ہیں۔ کہ وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے۔ اپنوں کی دی گئی تکلیف اور دکھ کے سامنے ہم کتنا ہی ڈٹ جائیں ۔مگر ایک لمحے کے لیے ٹوٹ ضرور جاتے ہیں۔ لوگ صرف خود کے سگے ہوتے ہیں۔

آُپ ساری عمر کسی کے خیر خواہ ہو جائیں۔ بس زرا سی غلط فہمی ، غلطی یا بد گمانی کی دیر ہے آپ کی بھلائی آُ کے خلوص سمیت آکے منہ پر ماردی جائے گی۔ جب رزق میں تنگی محسوس ہو !تو غور کرلیا کرو کہ ماں باپ کےلیے دعا کرنا تو نہیں چھوڑ دی۔

کسی کی زندگی میں اس کے لیے زندہ رہنے کے اسباب پیدا کرنا اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے سے زیادہ بہتر ہے۔ اس دنیا میں سکون سے جینے کی ایک ہی تدبیر ہے کہ ہر انسان کے پاس ایک وسیع قبرستان ہو۔ جہاں وہ لوگوں کی غلطیوں اور خامیوں کو دفنا آیا کرے کم ظرف بیوقوف لوگ مسلسل نئے رشتے بناتے ہی۔ں لیکن ایک بھی رشتہ نبھاتے نہیں ہیں۔ جبکہ اعلیٰ ظرف عقلمند لوگ کم رشتے بناتے ہیں۔ اور ہر ایک کو نبھاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *