ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ گ ن ا ہ نہ بتاؤں جو سب سے بڑا ہے

حضر ت جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنے گھر داخل ہوتا ہے تو وہ اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھانے کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ آج تمہارے لئے اس گھر میں رات گزارنے کی جگہ نہ ملی اور جب کھانا کھانے کا وقت اللہ کا نام نہ لے تو شیطان کہتا ہے کہ رات گزارنے کی جگہ اور شام کا کھانا مل گیا ۔

عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نےبیان کیا کہ نبیﷺ نے تین بار فرمایا کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑا گ ن ا ہ نہ بتاؤں لوگوں نے جواب دیا ہاں یا رسول اللہ آپﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا والدین کی نافرمانی کرنااور آپ ﷺ تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے فرمایا کہ سن لو جھوٹ بالنا اور بار بار اس کو دہراتے رہے ۔ یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپﷺ خاموش ہوجاتے اور اسمعیل بن ابراہیم نے بواسطہ جریری عبدالرحمٰن سے روایت کیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن بندے کیلئے سفارش کریں روزہ عرض کرے گا رب جی میں نے دن کے وقت کھانے پنے اور خواہشات سے اسے روک رکھ ا اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما اور قرآن عرض کرے گا

میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا اس کے متعلق میری سفارش قبول فرما ان دونوں کی سفارز قبول کی جائیگی ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس آدمی کی خوشی کے بارے میں کہا کہتے ہو جس سے اس کی سواری سنسان جنگل میں نکیل کی رسی کھینچتی ہوئی بھاگ جائے اور اس زمین میں کھانے پینے کی کوئی چیز نہ ہو اور ا س سواری پر اس کا کھانا پینا بھی ہو اور وہ اسے تلاش کرتے کرتے تھک جائے پھر وہ سواری ایک درخت کے تنے کے پاس سے گزرے جس سے اس کی لگام اٹک جائے او راس آدمی کو وہاں اٹکی ہوئی مل جائے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ بہت زیادہ خوشی ہوگی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی کی سواری مل جانے کی خوشی بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.