سات قسم کی عورتوں سے شادی نہ کریں؟

ایک عرب دانا نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ سات قسم کی عورتوں سے کبھی شادی مت کرنا خواہ وہ حسن و جمال اور مال و دولت میں بے مثال ہی کیوں نہ ہوں،کیونکہ ان میں سے کسی کے ساتھ شادی کرنے کے بعد ساری زندگی پچھتاوا ہی رہے گا۔ وہ سات عورتیں یہ ہیں۔1: وہ عورت جو ہر وقت سر پر پٹی باندھے رکھے، کیونکہ شکوہ و شکایت ہی ہمیشہ اس کا معمول ہو گا۔2: وہ عورت جو ہر وقت مرد پر احسان ہی جتاتی رہے کہ میں نے تیرے ساتھ یہ احسان کیا اور تجھ سے تو مجھے کچھ حاصل نہیں ہوا۔3:وہ عورت جو ہمیشہ ماضی کو یاد کرے کہ فلاں وقت میں میرے پاس یہ تھا وہ تھا۔4:وہ عورت جو ہر وقت اپنے سابقہ خاوند کو ہی یاد کرتی رہے اور کہے کہ وہ تو بڑا اچھا تھا مگر تم ویسے نہیں ہو۔5: وہ عورت جو خاوند سے ہر وقت فرمائش ہی کرتی رہے جو چیز بھی دیکھے اس کی طلب گار ہو جائے۔ وہ عورت جو ہر وقت اپنی چمک دمک میں ہی لگی رہے

۔ 7: وہ عورت جو تیز زبان ہو اور ہر وقت باتیں بنانا ہیاس کا کام ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص، جس نے کوئی نیکی نہیں کی تھی کہا: جب وہ مر جائے تو اُسے جلا دیا جائے، پھر اُس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی سمندر میں بہا دی جائے۔ کیونکہ خدا کی قسم، اگر اللہ تعالیٰ نے اُس پر قابو پایا تو ضرور اُسے اتنا عذاب دے گا جتنا ساری دنیا میں کسی کو عذاب نہ دیا ہو گا۔ (سو اُس کے اہلِ خانہ نے ایسا ہی کیا) پس اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو اس نے اس کے سارے ذرے اکٹھے کر دیئے اور خشکی کو حکم دیا تو جو ذرے اس کے اندر تھے اس نے جمع کر دیئے پھر اُس سے دریافت فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اُس نے عرض کیا: (اے اﷲ!) تو اچھی طرح جانتا ہے، تجھ سے ڈرتے ہوئے۔ پس اﷲ تعالیٰ نے اُسے بخش دیا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ایک شخص نے اپنی جان پر زیادتی کی (یعنی زندگی بھر گناہوں میں لت پت رہا)۔ جب اُس کی موت کا وقت آیا تو اُس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی جب میں مر جاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا، پھر مجھے راکھ کر کے ہوا اور سمندر میں منتشر کر دینا کیونکہ بخدا اگر میرے رب نے گرفت کی تو وہ مجھے اتنا عذاب دے گا کہ کوئی کسی کو اتنا عذاب نہیں دے سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا تو نے (اُس کے ذرّات میں سے) جو کچھ لیا ہے اُس کو واپس کر دے، وہ شخص (سلامت ہو کر) کھڑا ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تجھ کو اِس وصیت پر کس چیز نے برانگیختہ کیا تھا، اُس شخص نے عرض کیا: اے رب! تیری خشیت نے یا اُس نے کہا: اے رب تیرے خوف نے۔ پس اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *