تاریخ کو آپ کے ماضی سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کیساتھا بلکہ ۔۔؟

اگر تم سے ایک تارا گم ہو گیا ہے ، تو کیا ہوا ؟ آسمان پورا تاروں سے بھرا ہوا ہے ، اگر بھرے آسمان میں سے بھی کوئی تارا تیری قسمت میں نہیں تو کون جانتا ہے؟ شاید چاند تیرا نصیب ہوا۔کامیابی حاصل کرنے کے لئے آپ کو تنہا ہی آگے بڑھنا پڑتا ہے لوگ آ پ کے ساتھ تب آتے ہیں جب آپ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس کائنات کا ایک سب سے بڑا سچ ہے ، اور وہ یہ ہے کہ انسان جو کوئی بھی ہو اور کچھ بھی کرے لیکن جب وہ کچھ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو کر رہتا ہے۔تاریخ کو آپ کے ماضی سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کیسا اور کتنا شاندار گزرا ہے وہ آپ کا حال دیکھ کر آپ کا مستقبل طے کرتی ہے اور یہی قانون فطرت ہے۔خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہو گا کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا۔بداخلاق وہ ہے ، جس کا غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو نہ رہے ۔زمین عقل مندوں سے تو بھر گئی

لیکن درد مندوں سے خالی ہے ۔اچھے لوگوں کی نشانی خوش کلامی ہے۔دنیا کے ہر میدان میں ہار جیت ہوتی ہے لیکن اخلاق میں کبھی ہار اور تکبر میں کبھی جیت نہیں ہوتی۔رب کو عبادت سے اور مخلوق کو اپنے اخلاق سے راضی کرو ، دنیا اور آخرت دونوں میں خوش رہو گے۔زندگی کی تعریف کرنا بہت مشکل ہے اسے جاننا اور پہچاننا بھی مشکل ہے یہ ایک راز ہے ،ایسا راز ہے کہ جس نے راز جان لیا وہ مر گیا اور جو نہ جان سکا وہ مارا گیا۔عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں: میں ایک رات ابو بردہ کے پاس تھا کہ ہمارے پاس حضرت حارث بن اقیش آئے۔ حضرت حارث نے اُسی رات ہمیں بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ایک اُمتی کی شفاعت کے سبب قبیلہ مضر سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور بے شک ایک ایسا اُمتی بھی ہوگا (جو اپنے گناہوں کے سبب) دوزخ کے لئے اتنا بڑا ہو جائے گا کہ اُس کا ایک کونہ محسوس ہو گا۔حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک شخص، جو کہ نبی نہیں ہوگا، کی شفاعت کے سبب دو قبیلوں ربیعہ اور مضر یا اُن دونوں میں سے ایک کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

ایک شخص نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا ربیعہ مضر کی طرح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں وہی کہتا ہوں جس کا مجھے حکم دیا جاتا ہے۔حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس تین دن تک صرف فرض نمازوں کے علاوہ تشریف فرما نہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اِس بارے میں عرض کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے ستر (70) ہزار اُمتی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ میں نے اُن تین دنوں میں اپنے رب سے مزید کا سوال کیا تو میں نے اُسے عطا فرمانے والا، عظمت وبزرگی والا اور بہت کرم کرنے والا پایا۔ پس اُس نے مجھے اِس ستر ہزار کے ہر فرد کے ساتھ ستر، ستر ہزار عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! کیا میری اُمت اِس عدد تک پہنچ جائے گی؟ اُس نے فرمایا: میں تیری خاطر اس عدد کی گنواروں سے تکمیل کروں گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *