خبردار ! یہ دو کام زندگی سے سکون ختم کرتے ہیں

امام علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک شخص آکر عرض کرنے لگا یا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ کونسے کام ہیں جس کو کرنے والا زندگی میں سکون نہیں پاتا بس جیسے ہی یہ پوچھا گیا تو امام علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اے شخص میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ دو صفتیں ایسی ہیں جس انسان میں ہوتی ہیں اس انسان کی زندگی سے سکون چلا جاتا ہے تو اس نے پوچھا یا علی کونسے اوصاف تو امام علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا پہلی صفت حسد اور دوسری صفت لالچ یاد رکھنا جو انسان اللہ کی مخلوقات سے حسد کرتا ہے جیسے جیسے وہ حسد کرتا جائے گا ویسے ویسے وہ اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی زندگی کے سکون کو ختم کرتا جائے گا اور جو انسان لالچ کو مقدم رکھتے ہوئے شکر کو چھوڑ دے گا تو لالچ اس کو ق ب ر کے اندھیرے تک مسلسل بھگاتی رہے گی اوریوں نہ وہ زندگی میں سکون پائے گااور نہ ہی آخرت میں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ اپنی ذات کے متعلق لکھتا ہے جو اُس کے پاس عرش پر رکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا: بے شک میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنے دست قدرت سے اپنی ذات کے لئے لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے گناہ کیا (راوی نے کبھی یہ الفاظ کہے کہ ایک شخص سے گناہ سر زد ہوا) تو وہ عرض گزار ہوا: اے میرے رب! میں گناہ کر بیٹھا (کبھی یہ الفاظ کہے کہ مجھ سے گناہ ہوگیا) پس تو مجھے بخش دے۔ چنانچہ اُس کے رب نے فرمایا: میرا بندہ جانتا ہے

کہ اس کا رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا اور ان کے باعث مواخذہ کرتا ہے، لہٰذا میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ اس کے بعد جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ گناہ سے باز رہا، پھر اُس نے گناہ کیا (یا اس سے گناہ سرزد ہو گیا) تو اس نے عرض کیا: اے میرے رب! میں گناہ کر بیٹھا (یا مجھ سے گناہ ہو گیا) پس مجھے بخش دے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کرتا اور ان کے باعث مواخذہ کرتا ہے، پس میں نے اپنے بندے کو پھر بخش دیا۔ پھر وہ ٹھہرا رہا جب تک اللہ نے چاہا، پھر اس نےگناہ کیا (اور کبھی یہ کہا کہ مجھ سے گناہ ہوگیا)۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ پھر عرض گزار ہوا: اے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا یا میں پھر گناہ کر بیٹھا، پس تو مجھے بخش دے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کرتا اور ان کے سبب پکڑتا ہے، لہٰذا میں نے اپنے بندے کو تیسری دفعہ بھی بخش دیا۔ پس جو چاہے کرے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.