دو باتیں بیوی کے ساتھ ضرور کرنا؟

ایک باوقار شوہر اپنی بیوی کو اپنی عزت سمجھتا ہے اور کبھی اس کا وقار اور عزت نفس کو نہ خود مجروح کرتا ہے اور نہ کسی کو ایسا کرنے دیتا ہے ۔کسی بھی مرد کی زندگی میں بہار اس کی نیک بیوی سے ہی ہوتی ہے ۔باپ کے بعد اچھا شوہر بیوی کے سر کی چھت ہوتا ہے اس کا مان ہوتا ہے ۔جب بیوی تم سے سوالات کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تم پر شک کرتی ہے بلکہ وہ تمہارے اور قریب آنا چاہتی ہے۔عورت کو اگر وقت، محبت ، اعتماد اور سب سے خاص چیز عزت دی جائے تو وہ جان دے سکتی ہے مگر بے وفائی نہیں کرسکتی۔بیوی کی خوشیوں اور خواہشوں کا خیال رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ آپ کے علاوہ کسی سے نہیں کہہ سکتی۔عفت کی حفاظت مریم کی طرح،اعمال کا اخلاص آسیہ کی طرح،مؤمنہ ، مسلمہ ، اطاعت گزار، توبہ گزار، عبادت گزار، روزہ دار، راز کی حفاظت کرنے 4۔ راز کی حفاظت کرنے والی،

ایمان کی راہ میں شوہر کا ساتھ دئنے والیاں ( خیانت نہ کرنے والیاں )،اس ضمن میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کی خوبیاں: اپنے ہاتھ سے شوہر کی خدمت (کھانا پکانا پیش کرنا اس پر اللہ رب العزت اور جبریل کا سلام آیا )، آپ ﷺ کی خوبیوں کی معترف تھیں ( پیغام نکاح کا متن) ، اللہ نے آپ سے جنت میں محل کا وعدہ کیا کیونکہ وہ دنیا میں شوہر کو شور اور اونچی آواز میں بات کرکے ایذا نہ دیتی تھیں۔شوہر کی مشکلات اور تکالیف میں ان کی معاونت اور خیال رکھنے والی تھیں۔ دلاسہ دیتیں سب سے اول ایمان لائیں شوہر کی بات کی تصدیق کی ، مشکل وقت میں آپ کو تسلی دی ۔ دل بڑھایا ۔ آپ کے مکارم اخلاق کا اچھے الفاظ میں ذکر کرکے آپ کی ہمت افزائی کی

جب رسول پاکﷺ کو تنہائ چاہئے تھی تو خدیجہ نے ان کا ساتھ دیا ، نہ صرف حرا میں جانے دیا بلکہ خود کھانا پہنچانے کا اہتمام کرتیں اور خیال رکھتیں ، اپنا سارا مال رسول ﷺ کے لیئے وقف کردیا؟؟؟؟؟ بہرحلا وہ آپ ﷺ پر خرچ کرتی تھیں ، وہ خوبصورت اور خوب سیرت مشہور تھین۔ ذہین اور مدبر تھیں وہ طاہرہ کا لقب رکھتی تھیں ، کم عمر کنواری نہ تھیں مگر شوہر کو اہنے اوصاف کی بنا پر محبوب تھیں۔ وہ قدر دان تھے، نوٹ: اس کردار کو نبھانا ان کے لیئے بہت ذیادہ مشکل نہ ہوگا کیونکہ مقابل محمد ﷺ جیسا خلق کا مکمل نمونہ تھا۔ ستانا ، بد خلقی، خود غرضی ، اور کسی قسم کی خیانت کا مرتکب نہ ہونے والا ساتھی تھا۔ عزت اور تکریم کرنے ولا تھا ۔ قدر دان تھا , بھلائی کا جواب بہتر بھلائی سے دینے والا تھا ۔ موت کے بعد تکریم کرنے والا تھا اور یاد رکھنے والا تھا۔ بہر حال ، اللہ کی رضا کا حصول خدیجہ رضی اللہ عنھا کے اسوہ پر چلنے میں ہے جن کو اللہ کا سلام آیا ۔اللہ ہم سب کا حامی ونا صر ہو۔ آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *