یہ تین جڑی بوٹیاں استعمال کریں

تازہ جڑی بوٹیاں نہ صرف بغیر کیلوریز کے ذائقے کا باعث بنتی ہیں بلکہ بطور غذا یہ صحت مند اثرات کی حامل بھی ہیں۔جڑی بوٹیاں بطور دوا ہمارے باورچی خانوں میں ہزاروں سال سے استعمال ہو رہی ہیں اور ابھی تک ہمارے جسم پر

ان کے اثرات میں کمی نہیں آئی۔ذیل میں اس جڑی بوٹیوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جنہیں ہم اپنی غذائی اجزا کا حصہ بنا سکتا ہیں۔روز میری: روز میری خون کی نالیوں کی توڑ پھوڑکو روکتی ہے اور اس طرح ہمارے دل پر صحت مند اثرات مرتب کرتی ہے۔دی ٹو ڈائیٹ کا مصنف لکھتا ہے کہ صحت مند اثرات کی حامل جڑی بوٹیاں بدہضمی اور یادداشت کی کمی کے مرض کو روکتی ہیں اور پٹھوں اور جوڑوں کے درد میں جب انہیں مقام ماﺅف پر لگایا جائے تو یہ درد میں بھی آرام دیتی ہیں۔ روز میری میں کانوسک ایسڈ اور کارنوسول پایا جاتا ہے جو کینسر کے پھیلاﺅ کو روکتے ہیں۔ اجوائن خراسانی: اجوائن خراسانی میں بہت سے اینٹی آکسیڈینٹس کے علاوہ وٹامن اے اور سی پائے جاتے ہیں جو کئی کینسر پیدا کرنے والے خلیوں کی پیداوار کو روکتے ہیں، اس کے کئی اثرات دل کی صحت کو بہال رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کا علاج ہیں۔معدے اور آنتوں کی بیماریوں میں ادراک کا کردار بڑی اہمیت کا حاصل ہے۔

خصوصاً مورننگ سکینس کی وجہ سے ہونے والے اسہال اورمتلی، دوران حمل ہونے والی قے اور متلی، کینسر میں کیمو تھراپی کے بعد ادرک کا استعمال انتہائی مفید ہوتا ہے۔خوراک میں ادرک کا استعمال جوڑوں میں ہونے والی درد اور سوزش کا طاقتور ترین علاج ہے۔ دارچینی:دار چینی میں درد اور سوزش کش اثرات پائے جاتے ہیں اور یہ صحت مند اثرات کی حامل جڑی بوٹی معدے اور

آنتوں کے بگاڑ میں بھی مفید ہے جیسا کہ گلاس مین کہتا ہے کہ دارچینی میں نہ صرف اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں بلکہ یہ بلڈ شوگر لیول کو بھی قابو میں رکھتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ٹائپ زیابطیس کے مریضوں میں مضر صحت کو لیسٹرول کی سطح کو بھی کم کرتی ہے۔کینسر کے انسداد میں ادرک کا کردار: لہسن جو کہ ایک مشہور و معروف صحت مند اثرات کی حامل جڑی بوٹی ہے۔ جس سے کینسر کی روک تھام ہوتی ہے گلاس مین کے بقول لہسن میں اور بھی بہت سے امراض کے خلاف لڑنے کی خصوصیت پائی جاتی ہے جن میں ہائی بلڈ پریشر اور عام سردی زکام شامل ہیں ایک عام صحت مند اثرات کی حامل دوا ہے

شوربے میں لہسن ذائقہ بڑھانے کا کام دیتا ہے۔جوڑوں کے درد میں بچھو بوٹی:یہ ایک عام سی بوٹی ہے لیکن اس میں جوڑوں کے امراض کاشافی علاج موجود ہے

جو جوڑوں کی سوزش اور درد کو کم کرتی ہے اس کے علاوہ بچھو بوٹی کے استعمال سے سکری کا خاتمہ ہوتا ہے اور بال چمکدار ہوتے ہیں اس کے علاوہ بی ایچ پی کے مرض میں بھی مفید ہوتی ہے جو ایک ایسی بیماری ہے جس میں پر

وسٹریٹ گلینڈ بڑھ جاتے ہیں۔بچھو بوٹی کوچائے اور سوپ میں ڈال کر استعمال کیا جاتا ہے۔پیازی: بھنے ہوئے آلوﺅں پر اس کی سبز سطح وٹامن اے اور سی سے بھری ہوتی ہے جس میں زبردست اینٹی آکسٹنٹ اثرات ہوتے ہیں اس سبز جڑی بوٹی سے معدے کے کینسر کے خطرات کم ہوتے ہیں۔سلاد میں اس کا استعمال بہت اچھا ہے لیکن کھانے میں اس کی آمیزش سے کھانے کا ذائقہ بنتا ہے۔ثابت

: اس کے استعمال سے صحت مند کیسٹرول بڑھتا ہے اور مضر صحت کولیسٹرول کم ہوتا ہے اور بلڈ شوگر بھی کم رہتی ہے۔ثابت دھنیے میں جراثیم اور پھپھوندی کش اثرات بھی پائے جاتے ہیں۔تیج پات:تیج پات سردی سے لگنے والے بہت سے امراض کے علاج میں معاون ہے کیونکہ اس کے روغن میں سائینول پایا جاتا ہے جو بند ناک کھولنے اور سائنس کو سکون بخشنے میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.