اینٹی بائیوٹک کا کام کرنے والی 5قدرتی چیزیں

جب دنیا میں میڈیکل سائنس نے اس قدر ترقی نہیں کی تھی، اور دوائیں بنانے والی کمپنیاں نہیں بنیں تھی، تب لوگ قدرتی جڑی بوٹیوں اور اجزاء سے ہی بڑی سے بڑی بیماریوں کا علاج کرتے تھے۔ویسے تو اب میڈیکل سائنس میں بھی جڑی بوٹیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود قدرتی اشیاء کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی، یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں مختلف بیماریوں کا علاج گھریلو ٹوٹکوں یا قدرتی اجزاء سے کیا جاتا ہے۔تو ناظرین آج ہم آپ کو 5قدرتی جڑی بوٹیوں کے بارے بتاتے ہیں۔ جو قدرتی انٹی بائیوٹیک بوٹیاں ہیں اور جنہیں آپ بلا تکلف استعمال کرسکتے ہیں۔اوریگانو کا تیل یا پتے:اوریگانو خوشبودار جڑی بوٹی ہوتی ہے، جسے کھانوں کو ذائقہ دار بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اسے نیازبو یا مرزنگوش بھی کہا جاتا ہے۔دیہی علاقوں میں اس جڑی بوٹی کے پتے کھانوں میں کئی سال سے استعمال کیے جا رہے ہیں، اس میں بھی لہسن اور پودینے جیسی خاصیات ہیں، جو ہاضمے سمیت دیگر نظام کو درست کرتے ہیں۔اوریگانو کا تیل مالش اور جوڑوں کے درد سمیت جسم کے دیگر درد کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔چاندی کا عرق یا اس سے تیار دوا:یہ فارمولا آج کل میڈیکل سائنس کی دنیا میں تیزی سے اپنایا جا رہا ہے، کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے اینٹی بائیوٹک دوائیوں میں اس کا استعمال کرتی ہیں۔

سب سے پہلے اس کا استعمال 1900 میں کیا گیا، میڈیسن کی معروف کمپنی سِرِل نے سب سے پہلے اس سے اینٹی بائیوٹک دوا تیار کی۔اس میں شامل اجزاء اینٹی بائیوٹک کا کام کرکے اینٹی بیکٹریا اور جراثیم کا خاتمہ کرتے ہیں جو انسان کے دفاعی نظام کو متاثر کرکے ہاضمے اور نزلہ، زکام جیسی بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ہومیوپیتھی اور یونانی دیسی طب میں اس کا استعمال صدیوں سے رائج ہے۔شہد:شہد کو ہر بیماری کا علاج کہا جاتا ہے، اور اسے ہزاروں سال سے کئی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس میں شامل قدرتی اجزاء ہاضمے کو درست کرنے سمیت نزلہ، زکام، بلغم اور سینے میں درد جیسے مسائل سے نجات دلاتے ہیں، جب کہ یہ خون کو صاف کرکے چہرے کی رونق بھی بحال کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔لہسن:اگر لہسن کو علاج کے لیے پہلی قدرتی جڑی بوٹی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، کیوں کہ اسے صدیوں سے لوگ بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے استعمال کرتے آر رہے ہیں۔جدید سائنس اور ہربل میڈیسن میں سن 1700 سے لہسن کو بطور دوا استعمال کیا جا رہا ہے، لہسن میں شامل اجزاء جہاں اینٹی بائیوٹک کا کام کرتے ہیں، وہیں یہ اینٹی وائرل، اینٹی فنگل اور اینٹی مائکروبیل کا کام بھی کرتے ہیں۔

آسان الفاظ میں یہ کہ لہسن میں شامل اجزاء انسانی جسم میں پیدا ہونے والے بیکٹیریا اور جراثیم کے لیے خطرہ اور انسانی صحت کے لیے دوست ہوتے ہیں۔ ہلدی کے ایسے فوائد ٹرمرک:ہلدی قدرتی انٹی بائیوٹک ہے انفیکشن اور ورموں کو دورکرتی ہے، مصفی خون ہے۔کچی ہلدی ،اچار، سبزی اور سلاد کے طور پر کئی بیماریوں کو دورکرتی ہے ۔ہلدی ایک اینٹی تکسید اور اینٹی کینسر مادہ ہے جو خون کو بھی صاف کرتی ہے۔ ایک گرام ہلدی روزآنہ کھانے سے ہر قسم کا کینسر سے بچاو ہوتا ہے ہلدی کے استعمال سے جسم کا نظام مضبوط اور چست ہوتا ہے,ہڈیوں کے بھر بھرے پن کے علاج کیلئے رات کو سوتے وقت دس گرام کچی ہلدی یا ہلدی کی ایک انچ لمبی گانٹھ کو ایک گلاس دودھ میں ابالے، تھوڑا سا ٹھنڈا ہونے پر اسے پیئے۔ہلدی نمک اور سرسوں کا تیل ملاکر اس سے روزانہ دانت صاف کریں۔ دانت مضبوط ہونگے۔بھونی ہوئی ہلدی کوپیس کردرد والے دانت کی مالیش کریں آرام ملے گا۔پرانی کھانسی یا دمہ کے لئے آدھا چائے کا چمچ شہد میں ایک ۔ چوتھائی چمچ ہلدی اچھی طرح ملا کر چاٹنے سے فائدہ ہوتا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *