”کیلشیم کی کمی اور خون کی کمی وجوہات اور علاج ہرطرح کا درد غائب تیل بنائیں درد بھگائیں“

ہمارے جسم میں کیلشیم بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے اگر اس کی کمی ہو جائے تو انسان کی ہڈیاں درد کرنے لگتی ہیں اور کمزور ہو جاتی ہیں اور اسی وجہ سے ایک بیماری گھنٹیا پیدا ہو تی ہے ۔گھنٹیا دراصل جوڑوں کے درد سے متعلق ایک بیماری کا نام ہے۔ یہ کتنی تکلیف دہ بیماری ہے یہ وہ ہی جان سکتا ہے جو اس بیماری کا شکار ہو۔اس بیماری میں اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا سب مشکل ہوجاتا ہے اور خاص طور پر موسم کی تبدیلی اس بیماری پر اپنے بھرپور اثرات مرتب کرتی ہے جن میں سردیوں کا موسم گنٹھیا کے مریضوں کے لیے ایک بڑی آزمائش ہوتا ہے۔گھنٹیا کی بیماری عورتوں کی نسبت مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہے، خواتین میں یہ بیماری اس وقت جنم لیتی ہے جب ان کا ماہانہ نظام بند ہوجاتا ہے۔مردوں میں عموماً چالیس سے بچاس سال کی عمر میں یہ بیماری جنم لیتی ہے۔گھنٹیا کی ابتدا عموماً جسم میں پاؤں کے انگوٹھے سے ہوتی ہے۔کیوں کہ اس میں خون کی روانی کم ہوتی ہے اور یورک ایسڈ کو یہاں اپنی جگہ بنانے کا موقع مل جاتا ہے نتیجے میں گنٹھیا کا مرض سامنے آتا ہے۔

اس بیماری کی یوں تو بہت سی وجوہات اب تک سامنے آ چکی ہیں لیکن جسم میں یورک ایسڈ کا بڑھ جانا اور درست انداز میں اس کا جسم سے خارج نہ ہونا اس کی اہم اور بنیادی وجہ تصور کی جاتی ہے۔جسم سے یورک ایسڈ خارج نہ ہونے کی صورت میں جسم میں موجود جوڑوں کے اطراف میں یہ جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے، یورک ایسڈ باریک باریک ذرات کی شکل میں جمع ہوتا ہے جس سے جوڑوں پر سوجن محسوس ہونے لگتی ہے اور پھر اس کو چھونے سے تکلیف کا احساس بڑھ جاتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق گنٹھیا کے مریض کا اگر غلطی سے اس متاثرہ جوڑ پر ہاتھ یا کپڑا لگ جائے تو ناقابل برداشت تکلیف اٹھتی ہے جو اسے اندر سے ہلا کے رکھ دیتی ہے۔گنٹھیا کی بیماری مورثی بھی ہوسکتی ہے یعنی اگر خاندان کا کوئی فرد اسکا شکار ہے تو آنے والی نسلوں میں بھی یہ بیماری کسی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔گنٹھیا کے درد کی ایک وجہ خوراک میں بے ترتیبی، توڑ پھوڑ اور ضرورت سے زیادہ خوراک کا کھانا ہے، وقت بے وقت کھانے سے صحت ویسے ہی متاثر ہوتی ہے اور گنٹھیا جیسے مرض کا سبب بھی بنتی ہے۔

وزن بڑھ جانے سے یوں تو بے شمار بیماریاں جنم لیتی ہیں انھی میں گنٹھیا بھی شامل ہے۔ وزن بڑھنے اور جسم کے پھیل جانے سے وزن اور دباؤں جوڑوں کی طرف آجاتا ہے جس سے جوڑوں میں درد شروع ہوجاتا ہے اور گنٹھیا کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔گنٹھیا کے مرض کی ایک وجہ گردوں کی بیماری کا ہونا یا پھر گردوں کی خرابی بھی ہے، کیوں کہ گردے بھی عموماً یورک ایسڈ کے جسم سے خارج نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں اور گنٹھیا بھی یورک ایسڈ کے مناسب اخراج نہ ہونے کی ایک وجہ ہے، اس لیے اگر گردوں کا مرض لاحق ہوجائے تو گنٹھیا کا مرض بھی لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔کچھ لوگوں کی طبیعت میں آرام کرنا شامل ہوتا ہے نہ صرف آرام بلکہ ضرورت سے زیادہ آرام انھیں گنٹھیا جیسے مرض سے بھی متاثر کروادیتا ہے اور اکثر ایسے افراد زخمی ہوجائیں یا مکمل طور پر آرام کرنے لگ جائیں ، ان کے جسم کی ہڈیوں اور جوڑوں کو نقصان پہنچتتا ہے جس میں ایک نقصان گنٹھیا کا ہونا بھی ہے۔گنٹھیا وہ مرض ہے جس میں علاج کے ساتھ ساتھ پرہیز بھی بہت ضروری ہے۔

اگر ابتدا میں اس پر توجہ دے دی جائے تو اس مرض اور اس مرض کی تکلیف سے نجات بھی کسی حد تک حاصل کی جاسکتی ہے۔کچھ غذائیں ایسی ہیں جن کو استعمال میں لا کر گنٹھیا کے مرض کو خدا حافظ بھی کہا جاسکتا ہے۔یہ قدرت کا ایک بہترین تحفہ ہے، جس میں ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو گنٹھیا کے مرض کو دور بھگانے کی بھرپور طاقت رکھتے ہیں، طبی ماہرین کے مطابق اگر ادرک کا عرق باقاعدہ استعمال کیا جائے تو جوڑوں کا درد اور گنٹھیا کا مرض دونوں ہوا ہوجاتے ہیں، اس کے علاوہ ادرک کی چائے بھی اس مرض سے نجات کے لیے یہی تاثیر رکھتی ہے۔اس کے علاوہ اگر ادرک کو پیس کر اور اس اس کے پیسٹ کو سرسوں کے تیل میں اچھی طرح پکایا جائے اور جب ادرک کا پیسٹ اچھی طرح سے سرخ ہو جائے تو اس کو چھان لیجئے اور پھر اس تیل کو درد والی جگہ پر مساج کیجئے انشاء اللہ تمام طرح کا درد ختم ہو جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *