”کان پر بلوٹوتھ لگانے سے کینسر“

اکثر کیسز میں یہ چھالے یا زخم عام معمول کے چھالوں یا پیپ بھرے پھوڑے کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں، جو کہ 10 دن کے اندر ٹھیک ہونے لگتے ہیں، تاہم اگر کوئی چھالا یا زخم 2 ہفتے یا اس سے زائد وقت تک برقرار رہے تو یہ فکرمندی کی علامت ہے۔ کلیولینڈ کلینک کے ماہرین کے مطابق ایسا ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے کیونکہ وہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یہ رسولی تو نہیں، ویسے کینسر ہونے پر اکثر ان زخموں سے خون بہتا ہے جو کہ عام چھالوں یا زخم میں بہت کم ہوتا ہے، جبکہ یہ رسولی عام چھالے کے مقابلے میں زیادہ موٹی اور سختی ہوتی ہے۔

جیسے جیسے منہ میں کینسر کی رسولی بڑھنے لگتی ہے، بیکٹریا اسے سوجن کا شکار بنا دیتا ہے۔ یہ بیکٹریا عام معمول سے ہٹ کر بہت زیادہ بری سانس کی بو پیدا کرتا ہے جو کہ برش سے بھی نہیں جاتی جبکہ منہ میں درد کھانا نگلنا مشکل کردیتا ہے، ویسے یہ لازمی نہیں کینسر کی علامت ہو مگر تمباکو نوشی کے عادی افراد کو اس حوالے سے ڈاکٹر سے اس وقت ضرور چیک کرالینا چاہئے، جب یہ بو ڈھائی ہفتے سے زائد وقت تک دور نہ ہو۔

مسوڑوں، زبان یا منہ کے کسی حصے میں سرخ یا سفید رنگ کے نشانات ابھرنا اس بات کی علامت ہے کہ ابھی آپ کینسر کا شکار تو نہیں ہوئے مگر رسولی ضرور بن رہی ہے، اگر یہ نشان 2 ہفتے سے زائد تک موجود رہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں خصوصاً اس وقت جب اس کے ارگرد میں تکلیف محسوس کریں۔

کان کا ایسا درد جو سر کے سرف ایک حصے کو متاثر کرے، یہ کانوں کے عام انفیکشن سے ہٹ کرتا ہے، درحقیقت زبان، منہ کا پچھلا حصہ اور وائس باکس کا لنک کان سے ہوتا ہے، عام طور پر کان میں انفیکشن دونوں حصوں کو متاثر کرتا ہے، تو اگر صرف ایک کان میں مسلسل درد کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں جو تعین کرسکے گا کہ یہ معاملہ سنگین تو نہیں۔

زبان میں تکلیف یا اس کا بڑھنا بہت تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے، زبان انتہائی حساس حصہ ہے اور یہ حساسیت کے حوالے سے انگلیوں کی پوروں کی طرح ہوتی ہے، تو اس میں تکلیف ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

زبان میں تکلیف یا منہ میں کسی اور حصے میں تکلیف کے باعث غذا چبانا اور نگلنا تکلیف دہ ہوجاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں قدرتی طور پر کھانے کی مقدار کم ہوجاتی ہے تاکہ تکلیف سے بچا جاسکے اور اس کا نتیجہ وزن میں کمی کی شکل میں نکتا ہے۔ ایسے بغیر کسی کوشش کے جسمانی وزن میں کمی کینسر کی رسولی کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے جو جسم کے دیگر حصوں تکپھیل جاتی ہے، یعنی معاملہ سنگین ہونے لگتا ہے۔

اگر منہ میں کینسر کی رسولی اتنی بڑی ہوچکی ہو جو منہ کے اعصاب کو نقصان پہنچا سکے تو مریض کو منہ کے کسی حصے میں سن ہونے یا بے حسی کا احساس ہوسکتا ہے اور یہ علامت اچانک سامنے نہیں آتی، اس سے پہلے مریض کو رسولی کے باعث مہینوں تکلیف کا سامنا ہوتا ہے اور پھر اچانک وہ متاثرہ حصہ سن ہوجاتا ہے۔

مسوڑوں میں رسولی سے وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جس میں دانت گڑے ہوتے ہیں، جس کے باعث رسولی کے قریب موجود ایک یا 2 دانت ہلنے لگتے ہیں، ویسے عام طور پر یہ کینسر کی بجائے منہ کی ناقص صفائی یا کسی اور وجہ کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے، تاہم اگر دانت ٹوٹنے کے بعد بھی ٹشو موجود رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔

ویسے تو عمر بڑھنے کے ساتھ آواز کا بیٹھ جانا یا بھرا جانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں، خصوصاً تمباکو نوشی کے عادی افراد میں، مگر یہ عمل اچانک 2 یا 3 ہفتوں میں ہو تو یہ ضرور خطرے کی گھنٹی ہے جو بتاتی ہے کہ کینسر آواز کو متاثر کررہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *