”حاملہ عورتوں کے لیے بڑی خوشخبری“

آج حاملہ عورتوں کےلیے ایک بہت ہی خاص تحفہ ہے۔ کیونکہ حاملہ عورتوں کوان کےبچے کا جینڈر معلوم کرنے کےلیے ایک بہت ہی خاص نشانی بتائیں گے۔ جو اپنے اندر آسانی سے تلاش کرکے اپنے بچے کی جینڈر کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ آپ کو وہ نشانیاں بتا دیتے ہیں۔ یہ صرف اندازہ ہے آپ نے اسے بالکل سیرس نہیں لینا۔

کیونکہ بیٹا یا بیٹی دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ آ پ کو اینڑ ٹین کرنے کےلیے یہ نشانیاں بتارہے ہیں۔ شایدیہ بات درست ہوجائے اور غلط بھی ہوسکتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنے بالوں اور چہروں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کو بیٹا ہوگا یا بیٹی ؟ اگر آپ کے بال کےبڑھنے کی رفتا ر حمل ٹھہرنے کے بعد بھی ویسی ہے ۔ تو ایک بیٹی پیداہونے کی نشانی ہے۔ اگراس میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تو بال بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

خاص طور پر آپ ٹانگوں کےبال تو یہ ایک لڑکا پیدا ہونے کی علامت ہے۔ او راگر آپ کا چہرہ حمل ٹھہر جانے کے بعد بہت زیادہ گلو کرنے لگ جائے اور اس کے داغ دھبے ختم ہونے شروع ہوجائیں ۔ تو یہ بھی ایک چاند جیسا بیٹا پیدا ہونے کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ اور اگر آپ کا چہرہ پہلے صاف ہواور حمل ٹھہرنے کے بعد اس پر دانے بننے لگ جائیں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔

کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ایک بیٹی سے نوازنے جارہے ہیں۔ یہ وہ دو نشانیاں ہیں۔ جس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ کو حمل کی بنیادی علامتوں کے بارے میں بتاتے ہیں جن کے بارے میں ہر ایک کو آگاہ ہونا چاہیے۔ماہواری نہ آنا ایک عام علامت ہے کہ عورت حمل کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہوئی ہے۔ ماہواری کے دوران، بچہ دانی کی اندرونی لائننگ ٹوٹ کر ماہواری کے ساتھ بہہ جاتی ہے

جو تین سے سات دن جاری رہتا ہے۔ جب خاتون حاملہ ہو جاتی ہے تو ہارمون پروجیسٹرون کی مستقل پیداوار بچہ دانی کی لائننگ یعنی اندرونی دیوار کو برقرار رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حیض نہیں ہوتا ہے۔ حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران ایک عورت اپنے پیروں کے تلووں کے ساتھ ساتھ پیروں اور رانوں میں بھی پٹھوں میں اینٹھن محسوس کر سکتی ہے۔ ایک اور عام علامت جو خواتین حمل کے شروع میں اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ دیکھ سکتی ہیں وہ چھاتی کی حساسیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

جیسا کہ برطانوی قومی ادارہ صحت این ایچ ایس نے سمجھایا ہے کہ حمل کے دوران خواتین کے چھاتی معمول سے زیادہ تکلیف دہ اور نرم ہو جاتی ہیں اور عام طور پر ان کا سائز بھی بڑھ جاتا ہے۔ چھاتی میں مزید جسمانی تبدیلیوں میں رگوں کا زیادہ دکھائی دینا اور نپلز کے رنگ کا گہرا ہونا شامل ہوسکتا ہے۔

مارننگ سکنس یا صبح میں متلی اس طبیعت میں خرابی کو کہتے ہیں جس سے حمل کے دوران کچھ خواتین کو گزرنا پڑتا ہے۔ تاہم یہ متلی دن کے کسی بھی وقت ہوسکتی ہے۔این ایچ ایس کے مطابق مارننگ سکنس آپ کی آخری ماہواری کے تقریباً چھ ہفتوں بعد تک ظاہر ہوسکتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *