صبح جلدی اٹھنے کا آسان نسخہ زیادہ نیند آنے کا علاج

اگر پوری زندگی راحت کی گزارنی ہے اور آخرت میں بھی راحتیں لینی ہیں جس بندے کی نماز درست نہیں آپ اس کے ایمان کے بارے میں فیصلہ کیا کریں گے ۔سلف کے ہاں جو شخص نماز فرض لزوم کے ساتھ باجماعت نہیں پڑھتا تھا اس کے بارے میں ان کی رائے کیاہوتی تھی کہ اس کا ایمان ہی رقیق ہے اس کو تو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غرض کیا ہے مرد اور مومن اور پھر اس کو اس بات کی پرواہ نہ ہو اور اس بات پر سب سے بڑا فسوس ہے کہ آج اسلام کا دعویٰ کرنے والے کے میں بہت بڑا چیمپئن ہوں آپ جب نماز کی طرف دیکھیں گے تو وہاں فیل نظر آئے گا اللہ مجھے اور آپ کو محفوظ فرمائے ہم اگر نماز پڑھتے ہیں تو یہ اللہ کی توفیق سے پڑھتے ہیں اللہ کی توفیق نہ ہو تو کچھ نہیں ہوسکتا لیکن رسول اکرم ﷺ نے جو صحابہ کو تربیت دی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی گورنروں کا راؤنڈ لیتے اور ان کو بلاتے تو سب سے پہلا ایجنڈا کیاہوتا بتاؤ آپ کی نمازیں کیسی ہیں

اب یہ سوال ہے جس کو آج ہم سمجھتے ہیں کہ کیا یہ سوال ہے سب سے بڑا مہم کام جو ہے وہ نماز ہے جس نے اس کی حفاظت کرلی اس نے اپنے پورے دین کی حفاظت کرلی آج میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی انسان بیمار بھی ہوسکتا ہے بیماری عذر ہے کوئی انسان سویا بھی رہ سکتا ہے اور نیند بھی ایک عذر ہے اگر کبھی کبھار ہو لیکن ہم کیا کہتے ہیں اُف آج الارم نہیں لگا سکا کیا اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں صحابہ کے پاس ٹی وی تھا الارم تھا موبائل تھا ٹائم پیس تھا کیسے اُٹھتے تھے سب کچھ تھا تو دل کے اندر تھا دل کے اندر ایمان تھا شعور تھا ایک بچہ آیا آکے کہتا ہے ڈاکٹر کو کہ مجھے نیند بہت آتی ہے کوئی دواہی بتائیں کہ نیند نہ آئے اس نے ایک مرتبہ دیکھا اور دوائی لکھ کر اس کے ہاتھ میں دے دی وہ جاکر میڈیکل سٹور میں کہتا ہے کہ جی یہ دوائی دے دیں اس نے بھی پڑھا تو یہ مسکرا کے کہتا ہے کہ بیٹا یہ دوائی کس چیز کی لینا چاہتے ہوں کہتا ہے

کہ ڈاکٹر کے پاس گیاتھاکہ نیند بہت آتی ہے کہاپتا ہے یہ کیا لکھا ہے کہا کیا لکھا ہے کہا شعور زندہ ہو تو نیند نہیں آتی جس کا شعور مر چکا ہے اس کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے اس لئے امت کا شعور بیدار ہونا چاہئے میری نماز نہیں تو میرا ہے کیا رسول اکرم ﷺ نے اس لئے بخاری کی روایت ہے ثمرہ بن جندب نے روایت کیا ہے کہ میں نے جب دیکھا ایک شخص بیٹھا تھا اور ایک شخص کے سر پر ایک فرشتہ پتھر مار رہا تھا اور اس کو کچل رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون ہے جواب ملا یہ وہ ہے جس نے قرآن تو پڑھا فرض نماز کے وقت سویا ہوتا تھا اور بزار کی روایت ہے اور وہ روایت جو آپ عموما پڑھتے ہیں منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز بھاری ہوتی ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *