نبی کریمﷺ کی پسندیدہ سستی ترین سبزی

متعدد لوگ یہ بات نہیں جانتے ہمارا جسم چالیس فیصد پانی مختلف غذاؤں سے حاصل کرتا ہے ان غذاؤں میں کئی فروٹس اور سبزیوں میں سے کھیرا سر فہر ست ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ نبی کریمﷺ کی پسندید ہ غذاؤں میں بھی شامل ہے۔ قدرت کی عطا کردہ اس انتہائی سستی اور فوائد سے بھر پو ر سبزی کی افادیت اور اس کا کھانا کب نقصان کا باعث بنتا ہے وہ آپ کو بتاتے ہیں۔ اور نبی پاک ﷺ کی حدیث مبارکہ بھی سناتے ہیں۔ کھیرے گرم موسم جسمانی حرارت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کو مناسب مقدار میں پانی بھی پہنچاتے ہیں۔ اور ان میں موجود منرلنز ، وٹامنزاور دیگر اجزاء اسے صحت کےلیے بہترین انتخاب بناتے ہیں۔ ویسے گرمیوں میں ہلکی پھلکی غذا کے استعمال سے معدے کےلیے بہترہوتا ہے جبکہ مناسب مقدار میں پانی بھی پینا چاہیے ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ کھیرے میں یہ دونوں چیزیں اکٹھی ملیں گی۔ جبکہ کھیرا ایک ایسی ہلکی اور جسم کو تروتازہ کرنے والی سبزی ہے۔

جو غذائیت سے بھر پور اور قدرتی طور پروٹامنز او رمعدنیات کا ایک مجموعہ ہے ۔ اس میں موجو د غذائی اجزاء جسم کے کام کرنے کی صلاحیت کوبڑھاتے ہیں۔ اورجسم کو مختلف بیماریوں سے لڑنے میں مدددیتے ہیں۔ کھیرا ہمارے جسم میں پانی کی کمی کو دور کرتا ہے۔ گرمیوں میں کھیرے کے روزانہ کے استعمال سے آپ کا جسم پانی کی کمی کا شکار نہیں رہے گا۔اور آپ تروتازہ اورصحت مند رہیں گے۔ کھیرے سے آپ کو تمام غذائی اجزاء مل سکتے ہیں۔ کھیرے میں کیلوریز بہت کم ہوتی ہیں۔ لیکن جتنی بھی ہیں۔ ان میں بھرپور فائبرز، پروٹین ، وٹامنز، پوٹاشیم ،آئرن ، زنک اور میگنیشیم وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ تمام غذائی اجزاء ایک کھیرے سے وصول کرسکیں ۔ تو اس کا چھلکا مت اتاریں۔ بلکہ اس کو دھو کر چھلکے سمیت کھالیں۔ کیونکہ کھیرے کے کئی غذائی اجزاء خصوصاً فائبرز اس کے چھلکے میں موجود ہوتاہے۔ اسی طرح کھیرے کو بھوک کااحساس فوری طور پر مٹانے کےلیے بہترین غذا سمجھا جاتا ہے۔ آپ کو کھیرے سے متعلق احادیث مبارکہ سناتے ہیں ۔ پھر کھیرے کے فوائد اور چند نقصانات سے آگاہ کریں گے ۔ حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کہتے ہیں۔ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تر کھجوریں ککڑیوں کے ساتھ ملاکر کھاتے ہوئے دیکھا۔ ککڑی اردو کا ہی لفظ ہے کیونکہ یہ لفظ ہمارے ہاں زیادہ استعمال نہیں ہوتا۔ تو متعدد لوگوں کو اس کا معنی پتہ نہیں ہوتا۔

بعض لوگ تو اسے خربوزہ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ یا درکھیے کہ ککڑی کھیرے کا دوسرا نام ہے۔ کچھ طبیب اس سے تروی مراد لیتے ہیں۔ آپ ڈکشنری میں دیکھ سکتے ہیں۔ ککڑی کھیرے کو ہی کہتے ہیں۔ اب دوسری روایت سنیں۔ حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ وہ مجھے موٹا کردیں۔ کیونکہ میں حضور اکرمﷺ کے پاس جایا کرتی تھی ۔ وہ فرماتی ہیں۔ کہ وہ جو کچھ چاہتی تھیں ان کی کسی چیز سے مجھے فائدہ نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ انہوں نے مجھے ککڑی تر کھجور کے ساتھ ملا کر کھلائی تو میں اچھی خاصی موٹی ہوگئی۔ کھیرے طب نبوی ﷺ میں شامل ان غذاؤں میں سے ہے جسے کھانا نبی کریم ﷺ پسند فرماتے تھے ۔ تو ہمیں اسے طب نبوی ﷺ میں مذکور غذا کے طور پر ضرور استعما ل کرنا چاہیے۔ اور آپ ﷺ گرم تاثیر والی اشیاء کے ساتھ ٹھنڈی تاثیر والی اشیاء ملاکر کھایا کرتے تھے تو ککڑی تر یا کھیرا بھی اس میں شامل ہے۔ اگر آپ روزانہ بہت زیادہ کھیرے کھانے کے عادی ہیں اور اس کے ساتھ پانی بھی استعمال کرتے ہیں۔ تویہ آپ دماغی صحت کےلیے نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے۔ یہ انتبا ع امریکہ میں ہونے والی ایک طبی ریسرچ میں سامنے آیا کیلفورنیا ہارٹ سرجن نے ریسر چ کے دوران بتایا کہ کھیرے کے اندر جسم میں پانی کی مقدار کو بڑھانے والا ایک پروٹین پایا جاتا ہے جس کا تعلق اینزائما اور ڈمینشیا جیسی دماغی امراض سے دریافت کیاگیا ہے ۔ تحقیق کے مطابق اس پروٹین کی وافر مقدار معدے کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے جبکہ یاداشت کی ممکنہ محرومی کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.