چار غلطیاں جن سے انسان جلدی بوڑھا ہوجاتا ہے

چار غلطیاں جن سے انسان جلدی بوڑھا ہوجاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے چاہنے والوں کو در س اخلاق دے ہی رہے تھے اتنے میں آپ فرمانے لگے اے لوگوں ! چار کام سرانجام دینے والے وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا : یاعلی ! وہ چار کام کون سے ہیں۔ تب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پہلاکام : صبح کا کھانا نہ کھانا، جو انسان صبح کا کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھاتا وہ وقت سے پہلے ہی بوڑھا ہوجاتا ہے۔ دوسرا کام : جوانسان رات کو دیر دیر تک جاگتا ہے۔ تورات کی نیند کم کرنے والا انسان بھی وقت سے پہلے بوڑھا ہوجاتا ہے۔ تیسراکام : جوانسان حد سے زیادہ مباشرت کرتا ہے۔ وہ انسان بھی وقت سے پہلے بوڑھا ہوجاتا ہے۔ زیادہ شہوت میں رہنا اور زیادہ مباشرت کرنا انسان کو وقت سے پہلے ہی بوڑھا بنا دیتی ہے۔ اور چوتھاکام : جو انسان چھوٹی چھوٹی باتوں پر غمزدہ ہوتا ہے۔ زیادہ پریشان رہتا ہے۔

مصیبتوں کو سو چ سوچ کر اپنے آپ کو غم میں دھکیل دیتا ہے۔ وہ انسان بھی وقت سے پہلے بوڑھا ہوجاتا ہے۔ یا د رکھنا! اگر تم بھی زیادہ دیر تک جوان رہنا چاہتے ہو تو ان چار عادتوں سے دور رہنا ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری جوانی کو طویل کردے گا۔ جس کو تم چاہو اس کو کبھی آزمانا مت ۔ کیونکہ اگر وہ بے وفا نکلا تو دل تمہارا ہی ٹوٹے گا۔ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر چیز دوست کےلیے قربان کردیں۔ پر کسی چیز کے لیے اپنے دوست کو قربان نہیں کرنا۔ میل محبت پیدا کرنا عقل کا نصف حصہ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے پوچھا: میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ صبح نماز پڑھوں مگر اٹھا نہیں جاتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نیند کی وجہ سے نہیں بلکہ تم جوسارے دن میں جو گن اہ کرتے ہو وہ تمہارے گردن میں طوق، ہاتھو ں میں ہتھکڑی اور پاؤں میں بیڑیاں باندھ کر تمہیں اٹھنے نہیں دیتے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنے وہ نہیں ہوتے جو رونے پر آتے ہیں۔ اپنے وہ ہوتے ہیں۔ جو رونے ہی نہیں دیتے۔ دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے ناراضگی ظا ہر کردو۔ تیر ا نفس تجھ سے وہی کام کروائےگا۔ جس کے ساتھ تو نے اسے مانوس بنایا ہے۔ جس درخت کی لکڑی نرم ہوگی اس کی شاخیں زیادہ ہوں گی۔ بس نرم طبیعت اور نرم گفتار بن جاؤ تاکہ تمہارے چاہنے والے زیادہ ہوں۔ دنیا دھوکے باز اور نقصان دینے والی اور جلد فنا ہوجانے والی ہے۔ اس لیے خد ا نے دنیا کو نہ توثواب دینےلیے پسند فرمایا اور نہ ع ذاب دینے کےلیے ۔ ایک دفعہ مولا علی کہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک صحابی مولا کے پاس آیا او ر عرض کیا مولا میں نے سنا ہے

آپ کی جو تل وار ذوالفقار یہ پہا ڑ کو بھی چیر دیتی ہے۔ کیا یہ بات صیحح ہے؟ حضر ت علی نے فرمایا:ہاں صیحح سنا ہے۔ اس نے کہا آ پ اپنی تلو ار دیں گے۔ میں آزما کر دیکھنا چاہتا ہوں۔ آپ نے اسے اپنی تلوار دی۔ اس شخص نے زور سے دیوار پر ماری لیکن کچھ نہیں ہوا، تو اس نےمولا سے کہا کہ آپ تو کہہ رہے تھے کہ پہاڑ توڑ دیتی ہے۔ لیکن دیوار تو نہیں ٹوٹتی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: میں نے تمہیں اپنی تلوار دی ہے۔ اپنا ہاتھ نہیں۔ ذوالفقار تبھی ذوالفقار ہے جب علی کے ہاتھ میں ہو۔ ورنہ یہ صرف لو ہے کا ٹکڑا ہے او رکچھ نہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.