”ش ہ و ت جب دماغ پر سوار ہو جا ئے تو اس میں ایک فائدہ ہے“

سر ِ بازار ذکرِ الٰہی میں مصروف شخص مردوں میں زندہ کے جیسا، مغروروں میں غازی کے جیسا، اور خشک درختوں میں سر سبز کے جیسا ہے!! اللہ کی رحمت اُ س وقت جو ش میں آتی ہے جو تنگدست قرض دار کو مہلت دینا ہے!! دوست جو صرف تمہاری اچھی حالت کا دوست ہو اور برے اس سے ہمیشہ دور رہو وہ تیرا د ش م ن ہے۔ مخلوق سے ہمیشہ اس طرح پیش آ ؤ جیسا تم خود اپنے لیے پسند کر تے ہو !! تم چھپ کر وہ کام نہ کرو جو لوگوں کے سامنے نہیں کر سکتے۔

اللہ کا ہر فیصلہ عقل و انصاف پر مبنی ہو تا ہے اس لیے حرفِ شکا یت کبھی لب پر نہ لاؤ!! مہمان کے آ گے تھوڑا کھا نا رکھنا بے مروتی ہے اور حد سے زیادہ رکھنا تکبر ہے!! خواہش پر غالب آ جا نا یہ فرشتوں کی صفت میں شامل ہے اور خواہش سے مغلوب ہو نا جانوروں کی صفت میں شامل ہے!! نماز میں دل کی حاضری کی تدبیر یہ ہے کہ الفاظ کے معنی پر خیال رکھے!! جس شخص کو دنیا کی تجارت اپنے اند یوں ڈُبا لے کہ اُسے آخرت کی تجارت یا د ہی نہ رہے وہ یقیناً بڑا بد بخت ہے۔ ہر کام کی ابتداء برا ہو یا اچھا ہو۔ آنکھ سے شروع ہو تی ہے!!شہوت جب دماغ پر سوار ہو جا ئے تو اس میں یہ فائدہ ہے کہ

اگر تم ش ہ و ت کو روک لو گے تو جس قدر تم ش ہ و ت کو روکا ہو گا اُ س سے ہزار گنا تمہیں ثواب حاصل ہو گا۔ ہمیشہ ش ہ و ت کی مخالفت کر تے رہو

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.