”نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین چیزوں میں شفاء ہے“

نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ میں طب کے حوالے سے قیمتی ہدایات ملتی ہیں ۔یہ ایسی ہدایات ہیں جو ہردور میں دنیا کے لیے مشعل ِ راہ بنیں۔آپ ﷺ نے کئی امراض کے علاج بھی تجویز کیے ہیں۔امراض کے علاج کے حوالے سے اتنی بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ موسم،آب وہوا،خطہ ، بیماری کی نوعیت ، طریقۂ استعمال اور انسانی مزاج کے لحاظ سے علاج میں فرق آتا ہے۔اس لیے ان نسخوں کو استعمال میں لانے سے پہلےماہر طبیب سے مشورہ ضرور کرلیا جائے۔ہربیماری قابل علاج ہے:رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :اللہ رب العزت نے دنیا میں کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کی دوا ہو۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : انسان کے جسم میں معدہ تالاب کی مانند ہے ،پورے جسم کی رگیں معدے تک پہنچتی ہیں ۔جب معدہ صحت مند ہوتا ہے تو رگیں پورے جسم میں صحت اور تندرستی کو منتقل کرتی ہیں اور جب معدہ بیمارپڑجاتاہے تو رگیں بیماری کو پورے جسم میں پہنچادیتی ہیں ۔کیا ایک کی بیماری دوسرے کو لگ سکتی ہے؟رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : کوئی بیماری ایک مریض سےدوسرےکو نہیں لگتی۔مسند احمد میں ہے ایک آدمی آپ ﷺسے سوال کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم خارش زدہ بکری خرید تے ہیں اسے بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑتے ہیں

تو سب بکریاں خارش زدہ ہوجاتی ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا : اگر یہی بات ہے تو پہلی بکری کو کس نے خارش زدہ کیا ۔کسی جگہ وبا پھیل جائے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟رسول اکرم ﷺنے فرمایا : جب تمہیں کسی علاقے کےبارے میں معلوم ہوکہ وہاں طاعون پھیل گیا ہے تواس علاقے میں نہ آجاؤ۔اور جب طاعون کی وباایسے علاقے میں پھیل جائے جہاں تم اس وقت موجود ہو تو اس علاقے نہ نکلو۔شدید مجبوری میں حرام اشیا سے علاج:

حضرت انس رضی اللہ تعالی نے فرمایا : مدینہ منورہ میں چند لوگوں کے پیٹ خراب ہوگئے ۔رسول اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ مدینے کے مضافات میں اونٹوں کے چرواہوں کے پاس جائیں اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیئیں ۔انہیں اس کا حکم اس لیے دیا گیا کہ اس بیماری کا اس کے علاوہ کوئی علاج نہ تھا۔کیا طبیب مریض دیکھنے کی فیس لے سکتا ہے؟رسول اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ پچھنے لگوائے اور حجام کو اس کی اجرت دی ۔بیماری رحمت ہے یا عذاب؟ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : میں آپ ﷺ کے پاس آیا دیکھا کہ آپ بخار کی تکلیف میں مبتلا ہیں ،میں نے آپ ﷺ کو ہاتھ لگایا تو کہا :

اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کو بہت سخت بخار ہے ۔آپ ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں دو آدمیوں کے برابر مجھے بخار ہے ۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا: تو کیا آپ کے لیے دو اجر ہیں ؟آپ ﷺ نے فرمایا : جی ہاں کوئی مسلمان جب کسی تکلیف یا بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تواللہ رب العزت اس کے گناہ ایسے جھاڑتے ہیں جیسے موسم خزاں میں درخت اپنے پتے جھاڑدیتے ہیں ۔بیماریاں اور ان کا علاج پیچش اور متعدد امراض کاعلاج اس سے وابستہ ہے۔

مہینے میں ایک بار شہد استعمال کیا جائے تو جادو کا اثر نہیں ہوتا۔کھجور قوت بخش ہے۔سحردور کرتی ہے۔دل کی بیماریوں کے لیے عجوہ کھجور مفید ہے۔فاسد خون بیماریاں پیدا کرتا ہے۔ حجامہ کرانے سے یہ فاسد خون نکل جاتا ہے،اس طرح انسان کئی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔حجامہ ستر(۷۰) بیماریوں کا علاج ہے۔کلونجی کو خاص طریقوں سے استعمال کیا جائے تو لاتعداد بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا : کلونجی میں موت کے علاوہ ہربیماری کی شفاء ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے ہر بیماری کے ساتھ اس کا علاج بھی اتارا ہے ،تم گائے کادودھ پیاکرو کیونکہ وہ ہر قسم کے درخت سے چر تی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.