”حضرت علی ؓنے فرمایا: جس انسان کو غ ص ہ زیادہ آتا ہے وہ انسان ۔۔۔؟؟؟“

جس انسان کو غ ص ہ زیادہ آتا ہے وہ انسان پیار بھی اتنا ہی زیادہ کرتا ہے۔ اور اتنا ہی صاف دل رکھتا ہے۔ جب تمہارے دل میں کسی کے لیے ن ف رت پیدا ہونے لگے توفوراً اس کی اچھائی کو یاد کرو۔ جب تم دنیا کی مفلسی سے تنگ آجاؤ اور رزق کا کوئی رستہ نہ نکلے ، تو صدقہ دے کر اللہ سے نجات کرو۔ زندگی میں چاہے کتنی بھی خوشیاں ہو ہمارے پاس لیکن ہم تب تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک ہمارے ساتھ وہ نہیں جس کے ساتھ ہم خوش ہونا چاہتے ہیں۔یہ ظاہر نہیں کرتا کہ آپ غ ل ط اور دوسرا صیحح ہے۔ بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے رشتے کی اہمیت آپ کے انا سے بڑھ کر ہے۔ اچھے وقت سے زیادہ اچھا دوست عزیز رکھو کیو نکہ اچھا دوست ب رے وقت کو بھی اچھا بنا دیتا ہے۔ رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو ب رداش ت کرنا ہے، بے عیب انسان تلاش مت کرو، ورنہ اکیلے رہ جاؤ گے۔ جب انسان کی عقل مکمل ہوجاتی ہے تو ا س کی گفتگو مختصر ہوجاتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے پوچھا: میں بہت کوشش کرتا ہوں کہ صبح نماز پڑھوں مگر اٹھا نہیں جاتا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نیند کی وجہ نہیں بلکہ تم جو سارے دن میں، جو گن ہ ا کرتے ہو

وہ تمہارے گردن میں توک، ہاتھو ں میں ہ ت ھ ک ڑی اور پاؤں میں ب ی ڑی اں باندھ کر تمہیں ااٹھنے نہیں دیتے۔ایمان اور حیاء دو ایسے پرندے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک اڑ جائے تو دوسرا خود ہی اڑ جاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص کی دوستی پراعتبار نہ کر جو اپنے اقرارکو پورا نہ کرتا ہو۔ یہ دنیا ایک مقررہ وقت تک رہے گی اور آخرت ہمیشہ تک۔ م ع اف کرنا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جوسزا دینے پر قاد ر ہو۔ جس کی امیدیں اللہ کے ساتھ ہوں وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا، ناکام وہ ہوتا ہے جس کی امیدیں دنیا والوں سے وابستہ ہوں ۔ اچھا دوست ہاتھ اور آنکھ کی طرح ہوتا ہے جب ہاتھ کودرد ہوتا ہے تو آنکھ روتی ہے اور جب آنکھ روتی ہے تو ہاتھ آنسو صاف کرتا ہے۔اخلاق وہ چیز ہے جس کی قیمت کچھ نہیں دینا پڑتی مگراس سے ہر چیز خریدی جاسکتی ہے۔ جو حق کو چھوڑ کر عزت کا طلب گار ہوتا ہے اور ذل ی ل ہوکررہتا ہے اور جو حق کے ساتھ دش م ن ی رکھتا ہے ذل ت اس کا ہمیشہ کے لیے مقدر بن جاتی ہے۔ ہتھیاروں سے جنگ تو جیتی جاسکتی ہے مگر دل نہیں دل تو کردار سے جیتے جاتے ہیں۔ کائنات کی سب سے مہنگی چیز احساس ہے جو دنیا کے ہرانسان کے پاس نہیں ہوتی۔ عادت پر غالب آنا، کمال فضیلت ہے۔ عقل مند کی عادت ہے کہ وہ ضرورت یا دلیل کے بغیر بات نہیں کرتا۔ بارش کا قطرہ سیپی او ر سانپ دونوں پرگرتا ہے جب کہ سانپ اسے زہر دیتا ہے ۔ اور سیپی اسے موتی۔ جس کا جیسا ظرف ویسی اس کی تخلیق۔ برے ساتھی سے تنہائی اچھی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.